خشیت الہی
قسم کلام: اسم مجرد
معنی
١ - خدا کی ناراضگی، غصہ، غیض و غضب۔ "اس کا دل خشیت الٰہی سے لبریز تھا۔" ( ١٩٧٥ء، تاریخ اسلام، ندوی، ٦٣:٣ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ اسم 'خشیت' کے ساتھ کسرہ اضافت لگانے کے بعد عربی زبان سے ہی ماخوذ اسم 'الٰہی' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩١٤ء میں "سیرۃ النبی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خدا کی ناراضگی، غصہ، غیض و غضب۔ "اس کا دل خشیت الٰہی سے لبریز تھا۔" ( ١٩٧٥ء، تاریخ اسلام، ندوی، ٦٣:٣ )
جنس: مؤنث